• تازہ ترین

    جمعہ، 22 مئی، 2020

    بجٹ 2020-21 کی بڑی خبر سرکاری ملازمین کے لیے علمی لاگ کی طرف سے

    تو ناطرین کل بات کی گئی تھی کہ ایڈہاک ریلیف الاونس میں 10 فیصد اضافہ کی تجویز ہے جس سے سرکاری ملازمین میں سخت مایوسی چھا گئی تھی کیو نکہ اس مہنگائی کے دور میں اگر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جاتا ہے تو وہ انتہائی کم ہے اس سے پہلے بہت سی اچھی تجاویز بھی گورنمنٹ کی طرف سے سامنے آتی رہی ہیں اسی لیے اس خبر کو سن کر سخت مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ لیکن اب اچھی خبر یہ ہے کہ جیسا کہ ناظریں اس بات سے آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ کے پی کے اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور بلوچستان میں بھی مختلف پارٹیوں کی مخلوط حکومت ہے لیکن صرف سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے اس لیے اب یہ جو مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں اس بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ وفاق جو فیصلہ کرے گا صوبے اس چیز کو فالو کریں گے صرف سندھ گورنمنٹ کا فیصلہ وفاق سے الگ ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے اس حوالے سے آپ کو بتا تا چلوں کہ کل جو خبر آئی تھی وہ پنجاب حکومت کی طرف سے کی گئی تھی جب کہ اب مصدقہ ذرئع کا کہنا ہے کہ جب یہ بات فنانس ڈیپارٹمنٹ سے پوچھی گئی کہ اس سال معاشی حالات صحیح نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ اضافہ نہیں ہو گا اور 10 فیصد ایڈہاک ریلیف کی نوید سنائی جا رہی ہے تو اس پر ان کا یہی کہنا تھا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ فیڈرل گورنمنٹ کا ہو گا اور صوبے اس کے مطابق ہی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کا فیصلہ کریں گے۔


    اس کے علاوہ تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کے حوالے سے 10٪ سے لے کر 50٪ تک اضافہ کے علاوہ سکیل ریوائز کی بھی بات کی جارہی ہے۔ اور ملازمین کے مطالبات ہیں جیسا کہ ویڈیو کے شروع میں آپ کو آگاہ کر چکا ہوں کہ ملازمین موجودہ ہاوس رینٹ الاونس ور میڈیکل الاونس سے بھی خوش نہیں ہیں تو اس لیے ان تمام تجاویز پر حکومت کو غور کرنا پڑے گا کیونکہ آجکل ملازمین کی تنظیم بہت ایکٹو ہے اور وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے مختلف بڑے ٹی وی چینلز پہ انٹر ویو دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے لیکن پھر بھی جب بات کی جائے تنخواہ اور پنشن کی تو خزانہ خالی ہونے کا جواب ملتا ہے۔


    تو ناظرین جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی آیڈیل حکومت مدینہ کی حکومت ہے اور یہ سب سے پہلے لیڈر جن کو ایسی باتیں کرتے سنا گیا اور بہت سراہا جاتا ہے اور اس کو سراہا جانا بھی چاہیے کیونکہ بہت کم لیڈر ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں لیکن انتہائی افسوس سے یہ بات کر رہا ہوں کہ اس پہ عمل دیکھنے میں نہیں مل رہا اب ایک بات کو ہی لے لیتے ہیں کہ آنے والا بجٹ جو کہ جون میں پیش کیا جارہا ہے اور اس میں تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کی باتیں تو ہو رہی ہیں اسی لیے ہم ایک واقعہ جو ریاست مدینہ کا ہے اس میں کمی بیشی اللہ تعالیٰ معاف فرمائے تو حضرت ابو بکر صدیق جب خلیفہ بنے اور اپنی گزر بسر کے لیے کام پر جانے لگے تو حضرت عمر رض نے فرمایا کہ آپ کدھر جارہے ہیں تو ابو بکر صدیق نے کہا کہ میں کام پر جا رہا ہوں تو اس پر حضرت عمر کا کہنا تھا کہ اگر آپ کام پر چلے گئے تو حکومتی امور کون سر انجام دے گا اس پر غور و فکر کر نے کے بعد اس وقت کی شورٰی نے ان کی تنخواہ مقرر کرنے کے لیے کہا اب تنخواہ کتنی مقرر کی جائے یہ حل طلب بات تھی جس پر حضرت ابو بکر صدیق کا کہنا تھا کہ میری اجرت اتنی رکھ دو جتنی ایک مزدور کی ہوتی ہے تو اس پر سب نے کہا کہ آپ اس میں گزر بسر کیسے کریں گے تو ابو بکر صدیق کا کہنا تھا کہ اگر میری گزر بسر نہ ہو سکی تو میں سمجھوں گا کہ مزدور کی اجرت بڑھا دینی چاہیے اور میں مزدور کی اجرت بڑھا دوں گا آج کی ریاست مدینہ کی جو بات کی جاتی ہے کیا اس میں ایسا ہی ہے اور مزدور اور وزیر اعظم کی تنخواہ ایک جیسی ہے ایسا نہیں بلکہ اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اور مزدور کی تنخواہ شاید 20000 بھی نہیں بنتی جب کہ وزیر اعظم صاحب کا گزر بسر تو 2 لاکھ میں بھی نہیں ہو رہا اب اس میں بہت تزاد ہے اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو باتوں پر عمل بھی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس آنے والے بجٹ میں ضرور مزدور طبقہ کو ریلیف ملنا چاہیے

    • Blogger Comments
    • Facebook Comments

    0 کمنٹس:

    ایک تبصرہ شائع کریں

    Item Reviewed: بجٹ 2020-21 کی بڑی خبر سرکاری ملازمین کے لیے علمی لاگ کی طرف سے Rating: 5 Reviewed By: علمی لاگ
    Scroll to Top